ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / جاپان کا مہرہ نہیں بنے گا ہندوستان :چینی میڈیا

جاپان کا مہرہ نہیں بنے گا ہندوستان :چینی میڈیا

Sat, 12 Nov 2016 19:12:49    S.O. News Service

بیجنگ، 12 ؍نومبر(ایس اونیوزآئی این ایس انڈیا )چین اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا جاپان پر الزام لگانے کے ساتھ ہی چین نے آج کہا کہ ہندوستان اس پر لگام لگانے کے لیے جاپان کے ہاتھوں کا مہرہ نہیں بنے گا۔گلوبل ٹائمز نے وزیر اعظم نریندر مودی کے تین روزہ جاپان دورہ پر لکھے اپنے اداریہ میں کہا ہے کہ جاپان ہندوستان اور چین کے درمیان تنازعات کا استعمال کر کے چین پر لگام لگانے کے لیے ہندوستان کو راضی کرنا چاہتا ہے۔جاپان ہندوستان سے اپیل کرنا چاہتا ہے کہ وہ جنوبی چین سمندر ی معاملے میں ٹانگ اڑائے۔جاپان اس کے لیے اپنے برسوں پرانے جوہری استعمال کو کم کرنے کی پوزیشن میں بھی تبدیلی کر رہا ہے اور اس نے ہندوستان کو غیر فوجی ایٹمی تعاون کے فوائد کی پیشکش تک کر دی ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں جاپان کی سفارتی پالیسیوں کو دیکھیں ،تو آبے انتظامیہ چین کو گھیرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کو اپنی طرف کرنے کی کوششوں میں لگا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو جاپان سے جوہری اور فوجی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ صنعت اور ہائی اسپیڈ ریلوے کی طرح بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری کے لیے جاپان کی ضرورت ہے۔اخبار نے حالانکہ لکھا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے جاپان کی خواہشات کے مطابق اپنی پوزیشن بدلے جانے کا امکان نہیں ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے کثیر جہتی سفارتی تصورات اور اہم طاقت کا رخ اختیار کیا ہے۔جاپان کے منصوبے ناراضگی کے ہیں جو ہندوستان کی پالیسیوں کے مخالف ہیں، اس لیے ہندوستان ، جاپان کے ساتھ اپنے تعاون کا معاملہ در معاملہ عملی تجزیہ کرے گا۔اخبار کے اداریے میں لکھا گیا ہے کہ ہندوستان ، چین کو روکنے کے لیے جاپان کے ہاتھوں کا مہرہ نہیں بنے گا کیونکہ وہ چین اور جاپان کے برابر کی طاقت بننا چاہتا ہے اور دونوں فریق سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ہندوستان ، جاپان کے قریب جائے گا لیکن بھائی چارے کے تعلقات میں نہیں جائے گا۔ہندوستان اور جاپان کی طرف سے کل مشترکہ بیان جاری کئے جانے سے شایدپہلے لکھے گئے اس اداریہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق نے اشارہ دیا کہ وہ اپنے مشترکہ بیان میں جنوبی چینی سمندر ثالثی کو شامل کریں گے۔


Share: